یاں مرے در پہ یاروں کا ہے ہجوم
صبح سے شام تک رہے ہے دھوم
اساتذہ کی مجالس املا میں چالیس بلکہ ستر اور کبھی سوا سوا لاکھ طلباء کا ہجوم ہوتا تھا ۔
(۱۹۱۷ ، العصر (پٹنہ) ، ۲ : ۲۸۴) ۔
حوض لبالب بھر گیا اور پینے والوں کا چاروں طرف سے ہجوم ہوگیا ۔
(۱۹۲۳ ، سیرۃ النبی ﷺ ، ۳ : ۴۶۲) ۔
دیکھتے ہی دیکھتے بے پناہ ہجوم ہوگیا ٹریفک کا مسئلہ پیدا ہوگیا ۔
(۱۹۷۴ ، منو بھائی کے گریبان ، ۲۷۸) ۔