چشم گردش کی جو نیزہ باز ہے
لاک فوجاں میں اور دیپک ناز ہے
لگتے ہیں ایک جنبش مژگاں سے لاکھ زخم
کیا ترک چشم نام خدا نیزہ باز ہے
بڑے تیر انداز اور بڑے نیزہ باز ، خدا کی یاد میں اس طرح مشغول و تر زباں کہ ان کی مجلس میں کسی بات کا سننا مشکل ہوتا ۔
(۱۹۵۳ ، انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر ، ۱۶۹) ۔
ان چیزوں کا تنقیدی جائزہ لیا تو یہ اصلی تھے نیزہ باز ۔
(۱۹۸۸ ، سلیوٹ ، ۱۲) ۔
شناخت اصیل کابلی نیزہ باز کی یہ ہے کہ چونچ چھوٹی ۔۔۔۔۔ نتھنے ناک کے بڑے ہوں ۔
(۱۸۸۳ ، صید گاہ شوکتی ، ۲۱۴) ۔
اصطلاح کبوتر بازوں میں نیزہ باز اوس کو کہتے ہیں جو کبوتر مثل فاختہ کے اوڑ کر گرہ کرے ۔
(۱۸۸۳ ، صیدگاہ شوکتی ، ۲۱۵) ۔