وفاقی حکومت کے فعل کو متعین کرنے میں ہر جبلت کی رائے کو دخل ہوتا ہے ۔
(۱۹۳۵ ، علم الاخلاق ، ۸۶) ۔
وفاقی حکومت دفاع اور امورِ خارجہ کے شعبوں کا انتظام کرے گی ۔
(۱۹۷۷ ، میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا ، ۲۲۱) ۔
اس بات کا فیصلہ کہ کون سا مسئلہ پالیسی کا مسئلہ ہے وفاقی حکومت ہی کے دائرئہ اختیار میں رہے گا ۔
(۱۹۸۹ ، ریڈیائی صحافت ، ۳۰) ۔
اگر وفاقی حکومت کو خوش اسلوبی سے کام کرنا ہے تو حکومتوں کے احاطہء کار کی واضح حد بندی ہونی چاہیے ۔
(۱۹۹۹ ، پاکستان میں وفاقیت کی سیاست (ترجمہ) ، ۶) ۔