درد منداں کا سو درماں عین اسکا لطف ہو
ہوویگا اک بارگی مشکل سب آساں غم نہ کھا
نہ ہووے کیوں جہاں کے بیچ ہر مشکل مری آساں
زبانِ صدق سوں میں دم بدم کہتا ہوں یا حافظ
بس رہ چکے دنیا کے غم و رنج و الم میں
آساں ہوئی جاتی ہے یہ مشکل کوئی دم میں
مشکل تو اک دن آسان ہوگی
یہ کون جانے دم پر بنی کیا
کم از کم خواب تو ایسے دکھا دیتا ہوں جن میں مشکلیں آسان ہوتی ہوئی نظر آتی ہیں ۔
(۱۹۹۷ ، افکار ، کراچی ، جنوری ، ۵۶) ۔
دعا یہ ہے کہ وقتِ مرگ اس کی مشکل آساں ہو
زباں پر داغؔ کے نام آئے یارب یک بیک تیرا
سخت جاں میں ہوں ، چھری کند ہے نازک جلاد
دیکھئے ہوتی ہے آساں مری مشکل کب تک