کاروبارِ دنیاوی کرنا مشکل پڑا ۔
(۱۸۰۳ ، گنج خوبی ، ۱۶) ۔
خلش اس مژہ کا یہی ہے جو دل سے
مجھے سانس لینی بھی مشکل پڑے گی
تم کو بھی مشکل پڑے گی عاشقوںکی داد میں
دونوں عالم ہیں ہمارے حلقہء فریاد میں
مرد کے نہ ہونے سے بڑی مشکل پڑ جاتی ہے ۔
(۱۹۸۵ ، قصہ کہانیاں ، ۶۰۴) ۔