معانی کوں تمن غمزیاں تھے نیں ہوش
نچھل صوفی بندا ہے نا رکھو رنج
او صلصال کن آکر بھی یوں کہی
عقل ہوش تجھ سات اچھو مل رہی
تیری تدبیر پُر از دفتر ہوش و فرہنگ
تیری شمشیر پُر از جوہر فتح و نصرت
ہوئی مذمتِ مے رشکِ مے پئے ناصح
کہ سر سے ہوش گئے عقل میں فتور آیا
اتنا ہوش تم کو نہیں کہ کپڑوں پر نام لکھ لو ۔
(۱۹۰۸ ، صبح زندگی ، ۱۵۶) ۔
گیسوئے تابدار کو اور بھی تاب دار کر
ہوش و خرد شکار کر قلب و نظر شکار کر
میری عاشی ۔۔۔۔۔ جب ۔۔۔۔۔ تمہاری کتابیں پڑھے گی ہوش اور سمجھ سے معاشرے کے متعلق سوچے گی ۔
(۱۹۶۹، دامان باغباں ، ۳۰۸) ۔
کھانے پینے تک کا ہوش نہیں بلب کی طرف کیا دھیان جاتا ۔
(۱۹۸۵ ، کھویا ہوا آدمی ، ۲۵۶) ۔
ہوش میں آنے پر جسم پر کپکپی طاری ہو جاتی ہے ۔
(۲۰۰۵ ، علم الادویہ (ترجمہ) ، ۱۰۸) ۔
بولے میرے جیو کا جگر گوشہ تھا
کہ تج تے موجے سب منے ہوش تھا
اگر ہوش میں ہوں ولے بے خبر
وہ صورت رہے میرے پیش نظر
کیا اچھا گھوڑا تھا ، مرتبہ شناسی میں آدمی سے زیادہ ہوش رکھتا ۔
(۱۸۴۷ ، تاریخ یوسفی ، کمل پوش ، ۲۶) ۔
ہم نے تو اپنے ہوش میں اتنا بڑا طوفان نہیں دیکھا ۔
(۱۹۰۳ ، سرشار ، بچھڑی ہوئی دلہن ، ۳) ۔
یا تو کر سڑن مجھے ہوش میں نہ آؤں میں
یا تو اپنے ہوش میں ان کو دیکھ پاؤں میں
میں تو فروٹ اس لیے لے گیاتھا کہ وہ ہوش میں ہو گا ۔
(۲۰۰۶ ، چار جدید مصور ، ۱۱۹) ۔
رہیا وینچہ کئی وقت تس جوش میں
ٹک ایک واں تی آیا سو پھر ہوش میں
رونے سے شہ کے ہوش کسی کے نہ تھے بجا
سینوں میں دل دھڑکتے تھے لرزاں تھے دست و پا
یہ تو آپ کے ہوش سے پہلے کا واقعہ ہے ، ہاں مگر ذہن پر اس کا اثر تو رہتا ہے ۔
(۱۹۸۶ ، جرم ظریفی ، ۲۲) ۔
[ف]
