وہ اس قماش کی عورت نہ تھی کہ ایک بیٹے کے مر جانے سے ہوش باختہ و بدحواس ہوتی ۔
(۱۸۴۸ ، تاریخ ممالک چین (ترجمہ) ، ۲ : ۵۷) ۔
جو سامنے آیا ہوش باختہ ہو گیا ۔
(۱۹۱۴ ، محل خانہء شاہی ، ۷۶) ۔
اب اگر اُردو کے املا کو شکل سے بے شکل کر دینے والی اصطلاحات پر ایک نظر ڈالی تو یہ تفہیم ہوش افزا ہی نہیں ہوش باختہ کرنے والی بھی ہے ۔
(۲۰۰۷ ، سہ ماہی الزبیر ، فیصل آباد ، شمارہ ، ۲ ، ۳ : ۴۲) ۔
[ہوش + ف : باختہ ، باختن = اڑنا ، ہارنا]
