ہوش اڑ جائیں گے اے زلف پریشاں تیرے
لب پر آیا جو مرے حال پریشانی کا
بعد آزادی بھی دے ہے رنج تاثیر قفس
ہوش اڑ جاتے ہیں گر دیکھوں ہوں تصویر قفس
ہوش اڑ جائیں گے جس وقت خبر دی ہوگی
چارہ گر خوف سے رخ پر ترے زردی ہوگی
اندھا کردے گا تجھ کو یہ جوش
سوجھے گا نہ کچھ اُڑیں گے یوں ہوش
تم سنو گے تو تمہارے ہوش اڑ جائیں گے ۔
(۱۹۴۷ ، قصہ کہانیاں ، ۷۹)
پھر اسے دیکھنے کی حسرت ہے
دیکھ کر جس کو ہوش اُڑ جائے
ساتھ والے کمرے سے شوشوئی کے کراہنے کی آواز آئی ، میرے ہوش اڑگئے ۔
(۱۹۹۰ ، پاگل خانہ ، ۹۴) ۔
ان دس پندرہ افراد پر مشتمل گروپ نے جب وہ تقریر سنی تو ان کے ہوش اُڑ گئے ۔
(۲۰۰۴ ، زرگرفت ، ۶۰) ۔
دیکھیں گر اُس کی چشم ُپر فن کو
ہوش اُڑ جائے ہوشیاروں کا
