استقلال چاہیے کہ آدمی کا ہوش بجا رہے ۔
(۱۷۴۶ ، قصہء مہرافروز و دلبر ، ۳۱) ۔
ہوش کب جلوۂ دیدار میں رہتے ہیں بجا
ہوگئے حضرتِ موسیٰ سے پیمبر بیہوش
عقبیٰ میں ہوش اختر غمگیں بجا رہیں
دیوے جواب قبر میں پورا سوال کا
ادھر آ نکلے کوئی اور نکل جانے دوں
بے خودی ہوش بھی جب میرے بجا رہنے دے
