جب آتی ہے رنگین کو وہ لے کے تب
مرے ہوش اڑاتی ہے دائی کی بات
ہوش اڑا دیتے ہیں طاؤس و عنادل کے ُبت
ایسی تانیں وہ گئیں نام خدا لیتے ہیں
عشق نے اس کے ہوش اڑا دیے تھے ، ہر وقت نالے کرتا ، آہیں بھرتا ۔
(۱۹۶۱ ، مومن اور مطالعہء مومن ، ۴۵۹) ۔
ائر ہوسٹس نے اپنے کیبن سے جو اعلان کیا اس نے ہوش اڑا دیے ۔
(۱۹۸۹ ، دلی دور ہے ، ۳) ۔
تمازت آفتاب نے ہوش اڑا رکھے ہیں ۔
(۱۹۳۴ ، قرآنی قصے ، ۱۱۳) ۔
بنا دیا میکدہ چمن کو صبا کی مستی بھری ادا نے
اڑا دیے ہوش مے کشوں کے ہوا میں اڑتی ہوئی گھٹا نے
لواحقین کو ۔۔۔۔۔ ُمردے کی راکھ ایک شیشی میں بند کر کے ایک ہوش اڑا دینے والے بل کے ساتھ تھما دی جاتی ہے ۔
(۱۹۸۹ ، امریکانو ، ۵۰) ۔
