شب سیاہ نہ دیکھی نہ میں نے روزِ سیاہ
کبھی نہ ہوش تمھارے فراق میں آیا
بارے اب تم کو ہوش آیا تو بڑی جلدی آیا ۔
(۱۸۸۶ ، بیتی کہانیاں ، ۱۰۷) ۔
دو ایک دفعہ ایسا کرنے سے باورچی کو ہوش آجائے گا ۔
(۱۹۳۲ ، مشرقی مغربی کھانے ، ۳۴) ۔
جنگ کے خاتمے کے بعد کوئی بھی امید پوری ہوتی نظر نہ آئی اب گاندھی کو ہوش آیا ۔
(۱۹۸۸ ، رئیس امروہوی ، قائداعظم جناح ایک قوم کی سرگذشت ، ۱۷۸) ۔
کوئی اُسے یاں تلک ُبلا لاوے
وہی آوے تو ہوش اسے آوے
نزع میں بھی ذوق کو تیرا ہی بس ہے انتظار
جانب در دیکھ لے ہے جب کہ ہوش آ جائے ہے
ہوش آیا تو بھتیجی کو گلے لگا کر کیسی بلکی ہے کہ سننے والوں کے دل پر چوٹ لگتی تھی ۔
(۱۹۰۸ ، صبح زندگی ، ۲۲۰) ۔
تمہیں تھوڑی دیر کے لیے ہوش آیا تھا ۔
(۱۹۵۷ ، پہلی کہانیاں ، ۸۲) ۔
ہوش آیا تو میں دہلیز پر افتادہ تھا ۔
(۱۹۶۸ ، ماورا ، ۷۶) ۔
کنتا کو جب ہوش آیا تو اس نے اپنے آپ کو جہاز کے عرشے پر پایا ۔
(۲۰۰۳ ، سلاسل (ترجمہ) ، ۹۱) ۔
جب ہوش آیا تب اپنے دل کو خوبصورتوں اور نازنینوں کے ساتھ لگایا ۔
(۱۸۰۲، باغ و بہار ، ۴۷) ۔
ان حسینوں پہ لڑکپن ہی رہے یااﷲ
ہوش آتا ہے تو آتا ہے ستانا دل کا
