تخم تخم اس کا شجر بن کے نیا پھل دینا
ٹوٹ جاتا کو کہیں گر کے زمین پر کوئی پھل
گلاب کی جڑ اور تکیم ایک لیکن پھول ، پتے ، کانٹے، میں جدائی.
(۱۹۱۳، انتخاب توحید، ۵۰)
جس وقت تخم مرغ کو اس پانی پر رکھتے ہیں تو وہ انڈا قائم رہتا ہے.
عناصر مادہ کی شکل میں بھر جمع ہوں کیو نکر
نہ تحریک بدر ممکن نہ تخم زن ہو بار اور
نہیں تخم سے سام نیزم کے تو
نہین کچھ تری زینہار آبرو
آدم اور حوا اور ان کے تخم پر بد حواسی اور خوف طاری کر دیا .
(۱۹۴۳، تائیس ، ۲۰۹)
کہتے اوہے معدن اس منڈن کا
بل ، تخم تمام تر پھون کا
(۱۷۰۰، من لگن ، ۹۹)