محفل یار میں یوں ہو تری گرما گرمی
آگ لگ جائے تجھے شمع تو جل جائے کہیں
ایک جنگل ۔ ۔ ۔ میں جو ہمیشہ جل جایا کرتا ہو ۔ ۔ ۔ جنگل کی فصل میں بہترین جگہ حاصل کر سکتے ہیں۔
(۱۹۰۶، تربیت جنگلات،۶۷)
وہ غازہ ملتے جو منہ پر چراغ جل جاتے
برنگ شمع کنول رشک سے پگھل جاتے
یکایک آئی در اوپر سکینہ لے چھا گل
پکاری اے چچا عباس پیاس سوں گئی جل
گرمیٗ عشق مانع نشوو نما ہوئی
میں وہ نہال تھا کہ اگا اور جل گیا
گرمی کے موسم میں جن پودوں کو پانی نہیں ملتا ،سوکھ جاتے ہیں ،گھاس جل جاتی ہے۔
(۱۹۰۶، جغرافیہٗ طبیعی،۴۷)
چمن میں گر خبر جاوے ہمارے دل کی سوزش کی
دل بلبل کے مانند ہر گل خوش رنگ جل جاوے
میں جل گیا وہ غیر کے گھر جو چلے گئے
شعلے سے استغارہٗ آواز پا کروں
ادھر ان سب کا کھانا کھاکے آنا اپنی گاڑی میں
میاں کالے کو لیٹا دیکھ کر گوروں کا جل جانا
لونڈیاں بیگم کو خبر پہنچائیں کہ فلانی حرم پیٹ سے ہے بیگم چڑ کر مارے جل گئی۔
(۱۸۰۰؟ قصہ گل و ہر مز،۴ ب)
اسماعیل بیگ کی چالاکیوں سے سیندھیا ایسا جل گیا تھا کہ اس نے ۔ ۔ ۔ ۔ لشکر پر حملہ کردیا۔
(۱۹۴۷، فرھت ،مضامین ،۱۰۷:۳)
للہ میری ان باتوں سے جل نہ جانا۔
(۱۸۷۴، انشائے ہادی النسا،۲۴)
داغ کے نام سے نفرت ہے وہ جل جاتے ہیں
ذکر کمبخت کا آنے کو تو اکثرآیا
اور جس قدر عورتیں ہوں وہ سب بن سنور کر کشادہ پیشانی اے اس مردہ کے ساتھ جل جاتی ہیں۔
(۱۹۳۹، آئین اکبری،۲۹۴:۲)