رو بیلے یہ سب کر کے دوڑے شتاب
ہوے مارے غصے کے جل کر کباب
جس چیز سے دشمنی پیدا ہوتی ہے اب اس کو ترقی دینی چاہیئے جس سے دشمن جل کر کباب ہوں گے
(۱۹۱۹، آپ بیتی،۱۳۳)
پھیھپڑہ اس کی ہلکی ہلکی آنچ سے جل کر کباب ہو جاتا ہے۔
(۱۹۱۲، سی پارہٗ دل ،۹۴:۱)
وہ قاضی بے چارا ہو جل کر کباب
کہا شور کر چور سے یوں شتاب
ہوا ہے محفل ساقی میں غیر جل کے کباب
ہمارے منہ سے جو نام شراب نکلا ہے