۱. لاکھ کان٘چ پلاسٹک یا سونے چان٘دی وغیرہ کا خوش نما اور دائرہ نما زیور جسے مشرقی عورتیں اپنی کلائیوں میں پہنتی ہیں اور اسے سہاگ کی علامت سمجھتی ہیں.
اور تیسی ہی چمک جڑاؤ چنپا کلی کی اور دولڑی . . . و چوڑی و جہانگیری و انگوٹھی و چھلوں کی.
( ۱۷۴۶ ؟ ، قصہ مہر افروز و دلبر ، ۴۴ )
شہزادے کو گود میں لے کر گھونگٹ نکالے ، سرخ پوشاک ، شہانی چوڑیاں پہنے تارے دیکھنے کو باہر آئی.
( ۱۸۹۰ ، فسانۂ دل فریب ، ۳۱ )
ان کی محبت کی یادگار یہ طلائی چوڑیاں ان کی خدمت میں پیش کرتی ہوں.
( ۱۹۱۸ ، انگوٹھی کا راز ، ۴۰ )
یہ جگت پر دیر سے بچھووں کا شور
کانچ کی ہاتھوں میں بجتی چوڑیاں
( ۱۹۸۲ ، تار گریباں ، ۹۴ )
۲. وہ دائرہ نما زیور جسے خواتین زیور کے طور پر پان٘و میں پہنتی ہیں ؛ کڑے ، لچھے.
پیروں میں جھاجھنیں اور تین تین جال دار چوڑیاں.
( ۱۹۴۰ ، آغا شاعر ، ارمان ، ۴۸ )
۳. کسی پرزے یا سلاخ میں کٹا ہوا پیچ نیز مڑوڑی یا گھمیری دار کٹاؤ کا ایک پھیر یا بل.
نل یا سلاخ کے دونوں سروں پر آدھ آدھ انچ تک چوڑیاں کٹی ہوئی ہیں.
( ۱۹۴۴ ، اصطلاحات پیشہ وراں ، ۸ : ۶ )
اندرونی پیچ تراش . . . اندرونی چوڑیاں بنانے کے کام آتا ہے.
( ۱۹۴۸ ، انجینیری کارخانے کے عملی چالیس سبق ، ۱۲ )
ڈھیریاں اور ان کے کابلے ، ان دونوں میں چوڑیاں پڑی ہوتی ہیں اور ایک کو گھما کر دوسرے میں جما دیا جاتا ہے.
( ۱۹۶۹ ، مشینیں ، ۲۵ )
اف : بنانا ، بننا ، ڈالنا ، ڈلنا ، کاٹنا ، کٹنا.
-
۴. حلقہ ، بل ، دائرہ.
اوپری جبڑے میں صرف دو دانت ہوتے ہیں ، ان میں سے ایک . . . سات آٹھ فٹ تک بڑھتا رہتا ہے ، یہ اندر کھوکھلا اور اس کے اوپر پیچ دار چوڑیاں ہوتی ہیں.
( ۱۹۳۲ ، عالم حیوانی ، ۹۳ )
۵. رک : چوڑ ، چوڑا (۱).
کتنا بڑا ہاتھی ہے! کیا لمبے لمبے دانت ہیں!َ اور ان پر سنہری چوڑیاں کیا بہار دیتی ہیں.
( ۱۸۶۹ ، اردو کی پہلی کتاب ، آزاد ، ۶۵ )
۶. تن٘گ موری کے پاجامے کے پائین٘چوں کی سلوٹ یا پھیر جو ٹخنوں اور پنڈلیوں پر ہوں.
گھٹنوں تک پائجامے کے چوڑیاں پڑی ہیں.
( ۱۸۷۷ ، توبۃ النصوح ، ۶۲ )
پاجامہ ہمیشہ چست پہنتے ہیں جس میں نصف ساق تک چوڑیاں ہوتی ہیں.
( ۱۹۵۲ ، نمک پارے ، ۱۰۹ )
۷. نازک ، بودی ، وہ چیز جو ادنیٰ سی ضرب سے ٹوٹ جائے ؛ عینک کا حلقہ
( جامع اللغات ؛ فرہنگ آصفیہ )
۸. کسی زیور یا برتن پر چتی ہوئی بیل کے دونوں طرف بنا ہوا ابھرواں خط
( ا پ و ، ۴ : ۴۷ )
۹. گھنٹے یا گھڑی کے ڈھکنے کے شیشے کا دھات کا بنا ہوا حلقہ جس میں شیشہ بٹھایا جاتا ہے
( ا پ و ، ا : ۱۶۶ )
اف : چڑھانا ، لگانا.
-
[ رک : چوڑ + ا : ی ، لاحقۂ تصغیر ]
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .