جو شاخِ سدرہ پہ بیٹھا ہو طائر مضموں
تو اُڑ کے صورتِ شاہیں کرے یہ اُس کو شکار
اس کا شکار بندوق سے بھی کیا جاتا ہے
(۱۹۰۴، ہندوستان کے بڑے شکار، ۲۵)
اسیرِ زلف و رخِ لالہ فام کر لینا
اونہیں شکار نیا صبح و شام کرلینا
جوانی بھر وہ اسلم پور کے خاندانوں کا شکار کرتی رہی
(۱۹۲۵، گرداب حیات، ۱۹)
کیا پرویز کے ساتھ مل کر تُو بھی مجھے شکار کیا چاہتا ہے
(۱۹۰۷، سفید خون، ۲۳)
کتنے جم وکے چلے گئے ہیں تہہِ خاک
کس کس کو شکار کر چکا ہے یہ ہلال