دل رسیدہ میرا یک جہاں سے اے صیّاد
تو فخر کر کہ ہوا ہے شکار تیرے بات
عجائب نگار جادو نے کہا اے یاقوت میں بچ گیا نہیں خود شکار ہو جاتا.
(۱۸۹۶، لعل نامہ، ۱: ۳۳۵)
سرمستیاں ہیں دورِ قدح ہائے راز کی
ہر شخص ” حکمت عملی “ کا شکار ہے
مجھے اعتراف ہے کہ جبلّت پر جو بحثیں میں نے اس سے قبل کی ہیں ان میں میں بھی اس خلطِ مبحث کا شکار ہوا
(۱۹۳۲، اساس نفسیات، ۲۲۶)
سوسائٹی کے بنیادی اثاثے لازماً ناقص استعمال کا شکار ہوں گے.
(۱۹۸۴، جدید عالمی معاشی جغرافیہ، ۲۸)