شکار گاہ ہے اس کا حقیقت ہور مجاز
(۱۶۳۵، سب رس، ۱۷)
اکثر شیرِ ببر شکار گاہوں یا عالمِ سفر میں اس کے سامنے آئے
(۱۸۸۳، دربار اکبری، ۱۶۸)
انگریز افسروں میں یہاں کی شکار گاہ بڑی مقبول تھی
(۱۹۸۷، شہاب نامہ، ۲۰۴)
۲. کاغذ کی قندیل جس میں کاغذ کے گھوڑے ہاتھی وغیرہ چلتے پھرتے نظر آتے ہیں
(ماخوذ : نور اللغات ؛ مہذب اللغات)