کَشْف
ُ الْقُبُور
(---ضم ف ، غم ا ، سک ل ، ضم ق ، و مع)
امذ
(تصوّف) عمل کے ذریعے سے مُردوں کا حل معلوم کرنا یا ہونا ، جو صوفیہ کی ایک کرامت سمجھی جاتی ہے ، بزرگ مزار (قبر) کے قریب ذکر کی حالت میں بیٹھتے ہیں تو صاحبِ قبر کی کیفیت معلوم ہوجاتی ہے
وہ بولا سُن کے : یترا گیا ہے شعور کیا ؟
کشف القلوب اور یہ کشف القبور کیا
(۱۸۳۰ ، نظیر ، ک ، ۲ ، ۱ : ۲۷)
ذرا سی پی کے تو اے شیخ مُردہ باطن دیکھ
ابھی ابھی تجھے کشف القبور ہوتا ہے
(۱۹۰۲ ، کلیاتِ رعب ، ۱۲۲)
[کشف + رک : ال (ا) + قبور (قبر (رک) کی جمع)]
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .