جس پر کرے او ٹک نظر ہوئے کشف اس ساتو انبر
ہو سے نہ پر ایسا کدھر جم اس ولایت ساز ہے
ہر اک کوں اس سوں خبر نئیں ہے جگ کے صفحے پر
تجھے جو کشف ہوئے راز ہائے پنہائی
چاہتا ہوں غیر پر افشا نہ ہو راز و نیاز
یا الہی کشف اوس کو ہو مجھے اشراق ہو
بات دل کی چھپاؤ گے تم کیا
ہم فقیروں کو کشف ہوتا ہے
اس مضمون کے آخر میں اقبال نے ضمناً اسلامی تاریخ میں ملوکیت کے تصور کا آغاز و ارتقا چند فقروں میں واضح کیا ہے معلوم ہوتا ہے اس مقام پر پہنچ کر اقبالِ کو ایک کشف ہوا
(۱۹۹۰ ، صحیفہ ، لاہور ، مارچ ، ۶۶)