مشکل کتابوں کو کہ جن سے طلباء کی استعداد اور ان کی قوت نظریہ اور عملیہ میں تقویت اور تکمیل النفس حاصل ہوتی ہے ۔
(۱۹۷۹ ، سلہٹ میں اردو ، ۱۷۰) ۔
خیال یا قیاس جس کے لیے ثبوت لائے جائیں ، مسئلہ جس میں تعقل سے کام لیا جائے ، کوئی واقعہ یا حقیقت جس کی توجیہہ کے لیے دلائل پیش کیے جائیں
منطق کے استعمال اور تقدیر یا مفروضہ ، نظریہ اور واقعہ کی اصطلاحات سے واقف ہونا چاہیئے ۔
(۱۹۴۱ ، تجربی فعلیات (ترجمہ) ، ۱)
کسی مسئلے میں نظری اور فکری اختلاف ؛ مخصوص نقطہء نظر ۔
واقعہ یہ ہے کہ اب تک اس بیماری کے ماہرین فن کے دو نظریے ہیں ۔
(۱۹۲۸ ، مضامین فرحت ، ۵ : ۵۵)
ان کا ایک نظریہ اور نصب العین ہے جس کے تحت وہ ادب میں اجتماعی مقاصد کی تلاش کرتے ہیں ۔
(۱۹۹۴ ، نگار ، کراچی ، جون ، ۹۵۴)
کسی چیز کے بارے میں کوئی تصور ، حکیمانہ رائے یا خیال ، خصوصی فکر ، حکیمانہ بات ، نچوڑ
اشاعرہ اور معتزلہ کے درمیان جو اختلاف ہے وہ صرف نظریے کا فرق ہے ۔
(۱۹۲۳ ، سیرۃالنبیؐ ، ۳ : ۵۲)
افسانے کے متعلق ایک نظریہ یہ تھا کہ آخر میں کچھ نہ ہونا چاہیے ۔
(۱۹۶۳ ، معیار ، ۲۰) ۔
فرائیڈ نے جنس کے بارے میں اپنا نظریہ پیش کیا تو اس پر ایک ہنگامہ اٹھ کھڑا ہوا ۔
(۱۹۹۰ ، دوسرا رخ ، ۱۴۶)
(فلسفہ) وہ تصور یا ادراک جو ایک نوع کے کل افراد پر حاوی ہو ، تصور کلی ، لائحہء عمل ، فکری مسئلہ ۔
اسلام جس دین کو لے کر آیا ہے وہ محض نظریہ اور فلسفہ نہیں بلکہ عمل بھی ہے ۔
(۱۹۷۲ ، اردو دائرۂ معارف اسلامیہ ، ۱۲ : ۱۷۷)
سائنس ایک طریقہء کار ہے جب کہ فلسفہ ایک نظریہ ہے ۔
(۱۹۸۷ ، فلسفہ کیا ہے ، ۱۳۳)
ریاضی یا سائنس کا کوئی کلیہ یا اُصول ، علمی یا سائنسی حقائق کا اظہار مع دلائل و ثبوت ؛ کسی دانش ور ، فلسفی یا سائنس داں سے منسوب خصوصی فکر یا تھیوری (Theory) ، کسی اُصول کو عبارت کی شکل میں ظاہر کرنا ، کلیہ ، مساوات ، فارمولا نیز کسی علم کے اُصول
ابن بدر کا پورا نام ابو عبداللہ ابن عمر ابن محمد تھا ۔۔۔۔۔ اس نے جبر و مقابلہ پر ایک کتاب لکھی جس میں اس نے دوم درجہ کی مساوات ۔۔۔۔۔ اصم ۔۔۔۔۔ نظریہ اربعہ متناسبہ ۔۔۔۔۔ وغیرہ سے بحث کی ہے ۔
(۱۹۷۲ ، مسلمان اور سائنس کی تحقیق ، ۱۳۴) ۔
کسی بھی مفروضہ کو اس وقت تک نظریہ کا مقام نہیں ملتا جب تک مشاہدات اور تجربات کی کسوٹی پر اسے اچھی طرح سے پرکھ نہیں لیا جاتا ۔
(۱۹۹۴ ، نگار ، کراچی ، نومبر ، ۷) ۔
[ نظر (رک) +یہ ، لاحقہء نسبت ]
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .