(تنقید) افلاطون اور ارسطو کا نظریہء فن جس کے تحت یہ دنیا عالم مثال کی نقل ہے نیز شاعری اس مادّی دنیا کی نقل ہے گویا شاعری نقل کی نقل ہے ۔
اس کے فوراً ہی بعد ارسطو اور اس کے نظریہ نقالی پر ان الفاظ میں روشنی ڈالتے ہیں ب
(۱۹۴۹ ، اردو تنقید کا ارتقا ، ۳۳۰)
ہیگل نے ارسطو کے نظریہ نقل کی مخالفت میں کہا ہے کہ نقل تو تکرار محض ہے ۔
(۱۹۸۵ ، کشاف تنقیدی اصطلاحات ، ۲۰۳)
[ نظریہء + نقال (رک) + ی ، لاحقہء کیفیت ]
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .