چارلس ڈارون (۱۸۸۲ ۔ ۱۸۰۹) کا نظریہ کہ کرۂ ارض پر نباتات اور حیوانات کی جو انواع پائی جاتی ہیں وہ نہ ابتدائے زمانے سے اسی طرح چلی آتی ہیں اور نہ تخلیق ارضی کے وقت سے اپنی موجودہ ہیئت میں موجود ہیں بلکہ وہ ارتقائی دور سے گزر کر اپنی ترقی یافتہ شکل میں ہیں ، اس کا کہنا ہے کہ انسان نے اپنی موجودہ ہیئت بندر سے ترقی کرکے اختیار کی ہے ، جب کہ خود بندر بھی دیگر انواع سے ترقی کر کے بندر بنا ہے ، حیوانات کی تدریجی ترقی کا نظریہ (Theory of Evolution) ۔
پودوں کے نمو اور سرگزشت ِحیات میں ایسی مماثلت کیوں ہونی چاہیے ۔۔۔۔۔ ان سوالات کا جواب نظریہء ارتقا سے ملتا ہے ۔
(۱۹۴۳ ، مبادی نباتیات (ترجمہ) ، ۲ : ۶۶۶) ۔
ان دوران میں سن ۱۸۵۹ء میں ڈارون نے سائنس کو نظریہء ارتقا دیا ۔
(۱۹۶۹ ، نفسیات کی بنیادیں (ترجمہ) ، ۱۱)