جو میں یو ملا قصہء دل پذیر
کیا نظم خوش طرح سوں بے نظیر
(۱۶۵۷ ، گلشن عشق ، ۴۳) ۔
خصوصاً جو فضلی ہے بے عقل و فہم
کہاں اس کوں قدرت کرے جو کہ نظم
۔ ترجمہ نظم کا نظم کیا
(۱۸۶۶ ، دیباچہ تہذیب الایمان (ترجمہ) ، ۳)
یہ داستان بثیرن ہی تھی جو سب سے پہلے فردوسی نے اپنی اہلیہ کی فرمائش سے نظم کردی تھی
(۱۹۴۶ ، شیرانی ، مقالات شیرانی ، ۱۲۹)
اصل واقعات یا محض تاریخی حالات کو نظم کر دینے سے داستان طرازی کا حق ادا نہیں ہوتا ۔
(۱۹۶۸ ، تاویل و تعبیر ، ۹۱) ۔
بعض اوقات شاعر ایک مطلب کو ادا کرنا چاہتا ہے عالم وجدان میں ایک مضمون کو نظم کرتا ہے ۔
(۱۹۹۲ ، نگار ، کراچی ، ستمبر ، ۱۱) ۔