مگر ناف اس کی جنی جب جو مائی
بھنور سات کاٹی چھٹی نس جب آئی
چھٹی سے لے کر بسم اللہ تک اور منگنی سے لے کر چوتھی تک جتنی شادیاں کیں وہ اپنے نام کے لیے کیں.
( ۱۸۷۴ ، مجالس النسا ، ۱ : ۱۰)
بھٹیارے کی بھی بھلا کوئی اوقات ہے بیٹی کی چھٹی میں سونے چاندی کی کھچڑی بھیجی تھی.
( ۱۹۶۲ ، ساقی ، کراچی ، جولائی ، ۴۱ )
گھر گھر حصہ بٹا کنبے برادری سے چھٹی آئی.
( ۱۹۴۰ ، روشنک بیگم ، ۱۴۱ )