مزا چکھایا ہے کوہکن کو یہ عشق آیا جو امتحاں پر
کہ لایا تو جوئے شیر لیکن چھٹی کا دودھ آگیا زباں پر
جہل پھیلا ہے یہ آفت ڈھا ہی جائے گا حضور
دودھ ہونٹوں پر چھٹی کا آہی جائے گا خضور
ایڈیٹر جن کے منہ سے ابھی دودھ کی بو آتی ہے پھر قید تنہائی پائیں گے اور چھٹی کا دودھ ہونٹوں پر آجائے گا.
( ۱۹۰۷ ، انتخاب فتنہ ، ۲۰۴ )
چھٹی کا دودھ زبان پر آنا بجائے چھٹی کا دودھ یاد آنا.
( ۱۹۱۵ ، مرقع زبان و بیان دہلی ، ۱۹ )