جس دم اس نے سب مدارج سے چھٹی پائی . . . خبر آئی.
( ۱۸۴۶ ، سرور سلطانی ، ۱۲۰ )
ایک لڑکے کو پڑھانے جایا کرتا تھا ، جاڑے کا موسم تھا چار بجے شام کو پہونچ جاتا اور چھ بجے چھٹی پاتا.
( ۱۹۳۲ ، مضامین پریم چند ، ۱۸ )
دانش و عقل و خرد چل دیے سب چاہت میں
چھٹی پا کر نہ کوئی طفل دبستان ٹھہرا
عرض یہ ہے کہ . . . دوسرے آدمی میرے ساتھ کے چھٹی پاویں اور اپنے لڑکے بالے سے ملیں .
( ۱۸۰۰ ؟ ، قصہ گل و ہرمز (ق) ، ۱۰۶ )
قید اندیشۂ رسوائی سے چھٹی پائی
سب سے آزاد ہوا ہو کے میں دیوانۂ عشق
لڑکیاں پڑھ لکھ کر ان دقیانوسی ڈھکوسلوں سے کسی طرح چھٹی پا جائیں .
( ۱۹۰۸ ، صبخ زندگی ، ۵۵ )