چھٹے چھمائے مصالح پیسنے کی سل چکی رہے سے رہوالی .
( ۱۸۷۴ ، مجالس النسا ، ۱ : ۸۵ )
اس کے پاس بس یہی ایک لبادہ تھا جسے وہ چھٹے چھے ماہے صرف کسی تقریب میں زیت تن کرتا تھا.
( ۱۹۴۱ ، پیاری زمین (ترجمہ) ، ۶ )
معافی چاہتی ہوں بیگم آپ کو چھٹے چھمائے ہی دیکھنے کو مل جاتے ہیں .
( ۱۹۵۷ ، شام اودھ ، ۲۶۴ )
اس کی آمدنی کا واحد ذریعہ یہ تھا کہ چھٹے چھے ماہے . . . میزیں وغیرہ لگوا دیتا .
( ۱۹۶۹ ، وہ جسے چاہا گیا ، ۱۰۱ )