یاد ایام کہ یاں ترک شکیبائی تھا
ہر گلی شہر کی یاں کوچہ رسوائی تھا
یاد ایامے کہ تھا زوروں پہ جذب حسن و عشق
وہ میرے دل کا تڑپنا بے قراری آپ کی
یاد ایامے کہ تھا زندوں میں اپنا بھی شمار
زور تھا اپنے قلم میں باڑھ تلوار میں
کولئی آتا نہیں خیال کے ساتھ
یاد ایام تو کہاں آئی
یاد ایام کہ صحرائے محبت میں فراز
جرس قافلہ دل کی صدا زندہ تھی