ب نواب صاحب! آپ کے اخلاق کا شاکر اور آپ کی یاد آوری کا ممنون اور آپ کے دوام دولت کا دعاگو ہوں
(۱۸۶۵ ، خطوط غالب ، ۴۱۳) ۔
آں فرزند کے خلوص و محبت اور صدق ارادت کے مراتب ہزار گونہ یاد دہی اور یاد آوری کے مقتضی ہیں ۔
(۱۹۳۷ ، واقعات اظفری (ترجمہ) ، ۱۳۶)
اس قسم کے تفکر کو جس میں ہم ماضی کی یاد تازہ کرتے ہیں اور یہ شناخت کرتے ہیں کہ وہ ماضی سے تعلق رکھتی ہے ، ہم یاد آوری کہیں گے
(۱۹۶۹ ، نفسیات کی بنیادیں (ترجمہ) ، ۲۰۹) ۔
۴؍ مارچ کا خط ملا تھا یادآوری کے لیے شکر گزار ہوں
۔ (۱۹۹۸ ، مکاتیب رشید حسن خان ، بنام رفیع الدین ہاشمی ، ۱۰۴)