ہاں یاد اوسے کاہے کو مرا نام پڑے گا
پر یاد کرے گا جو کہیں کام پڑے گا
دیکھنے والے نزدیک و دور کو قصہ کوہ طور کا یاد پڑتا ہے
(۱۸۴۹۸، تاریخ ممالک چین (ترجمہ) ، ۱ : ۲۵)
ہمیں تو یاد پڑتا ہے ہم نے اسے کل تک تو نہیں دیکھا
(۱۹۴۰، آغا شاعر ، ارمان ، ۱۱)
شام کے وقت عین اس وقت یہ یاد پڑگیا کہ خوانچہ والا خوانچہ لگا کر آواز دیتا ہوا آتا اس کا انتظار کس شوق سے ہر روز رہتا
(۱۹۶۷، آپ بیتی عبدالماجد دریا بادی ، ۶۹)
مجھے اب یاد پڑتا ہے کہ فنچ نانا کی املاک خاصی وسیع اراضی پر مشتعمل تھی
(۲۰۰۵، جوئندہ یابندہ (ترجمہ)، ۱۱)ٖ