منشی فاضل تک طالب علم کو فارسی زبان میں عمدہ مہارت اور عربی کی سواد خوانی اور انگریزی بقدر عام ضرورت آ جائے گی ۔
(۱۹۴۳ ، حیات شبلی ، ۵۱۰) ۔
اپنی جوانی میں جذبات کے مدرسے میں ۔۔۔۔۔ محبت کی منشی فاضل ضرور کی ہوئی تھی ۔
(۱۹۸۷ ، خاک کا ڈھیر ، ۲۱۰) ۔
آپ کے اتنے مشکل فقرے ۔۔۔۔۔ کوئی منشی فاضل ہی سمجھ سکتا ہے ۔
(۱۹۸۹ ، دریچے ، ۸) ۔
۱۹۴۵ء میں منشی فاضل اور ۱۹۴۶ء میں اردو میں ادیب فاضل کے امتحانات امتیازی نمبروں سے پنجاب یونیورسٹی سے پاس کیے ۔
(۱۹۹۶ ، حضور احمد سلیم ایک مطالعہ ، ۱۰) ۔