اس جلد کو عجلت میں حقیر نے لکھا ہے ، منشی گری کا دعویٰ نہیں کیا ہے ۔
(۱۸۸۲ ، طلسم ہوش ربا ، ۱ : ۹۷۱) ۔
میرے اس یار نے اس کام کو بھی شاعری ، تاریخ گوئی یا منشی گری سمجھ لیا ہے ۔
(۱۹۴۷ ، فرحت ، مضامین ، ۴ : ۲۶۳) ۔
علوم مروجہ کی باقاعدہ تحصیل کی پھر تحصیل داری ، سرشتہ داری اور نائب منشی گری تک ترقی کی ۔
(۱۹۸۸ ، اردو نثر کے ارتقاء میں علما کا حصہ ، ۳۰۷) ۔
وہ اکثر سوچا کرتے تھے کہ انھوں نے ان نئے وکیل صاحب کی ’’ منشی گری ‘‘ آخر کی ہی کیوں ۔
(۱۹۵۸ ، میلہ گھومنی ، ۱۵) ۔
غضب ناک شیروں کی آوازیں محسوس ہوتی تھیں اور میری تمام منشی گری مارے خوف کے لرزے میں تھی ۔
(۱۹۴۰ ، مضامین رموزی ، ۷۱) ۔