ایک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب
خون جگر ودیعت مڑگان یا ر تھا
باغبان قوم صدھا بیغ کن کوئی نہیں
راہبر ایک ایک مخلص راہزن کوئی نہیں
چنانچہ ایک ایک عردت غسل کر کے صندل بدن پر مل کر آتی تھی.
(۱۹۳۹ ، افسانہ پدمنی ، ۱۲۴).
ایک ایک دانے کو محتاج ہوگئیں.
(۱۹۳۶ ، راشد الخیری ، شہید مغرب ، ۴۳).