چاند تارے کا جو کرتا تونے پہنا اے صنم
ایک ماہ نو نظر آتا ہے پر اختر کے پاس
جو کپڑے اس گذری میں بکتے اب ان کے نام بھی سننے میں نہیں آتے جیسے چاند تارا ، بلبل چشم ، طاؤس گردن.
(۱۹۰۶ ، مخزن ، اکبتوبر ، ۵۲ ).
کاغذوں گھٹتے ہیں ہو جب تم بڑھاتے ہو پتنگ
چاند تاروں پر تمھارا چاند تارا ڈور ہے
پروا کے ملائم جھونکوں میں پیٹے سے کٹا ہوا چاند تارا فضا میں پتا رہتا ہے.
(۱۹۷۰ ، یادوں کی برات ، ۱۱۵ ).
سلسلہ نور سے رکھتی ہے صنم کی تزئیں
چاند تارے کا بنا دے کوئی زر گر توڑا
بربادیواں کے ہوتھں ہر گز نہ مٹ سکے گی
جس قوم کا جہاں میں جھنڈا ہے چاند تارا
زینت ہیں آسمان کی شمس و قمر ستارے
اس پاک سرزمین کو زینت ہے چاند تارا