گردوں پہ اقتران خورشید و مہ عیاں ہے
زیبا کیا ہے کس نے ماتھے پہ چاند ٹیکا
بہارنے . . . اپنی پیشانی پر افشاں اور چاند ٹیکی لگائی.
(۱۸۸۲ ، طلسم ہوش ربا ، ۱ : ۱۸۷ )
عروس شب نے زیور ہفت انجم و کہکشاں آراستہ کر کے اور چاند ٹیکی قمر کی پیشانی پر لگا کر مشتاقوں کو منھ دکھایا.
(۱۸۸۰ ، طلسم فصاحت ، ۲۱۰ ).
شباب . . . دوسرے شعر میں خود سونے والے کی روشن نگاہی بنا ، رات کو بجلی بنایا اور چاند ٹیکی کی طرح چمکنے لگا.
(۱۶۲۵ ، اودھ پنچ ، لکھنو ، ۱۰ ، ۵ : ۶ )