خالی گوشوں میں سرو یا دوسرے سد بہار اور میوہ دار درخت نصب کر کے اسی مروّجہ نمونے کا ایک خوشنما باغ تیار کر دیتے جیسے کہ ممالکِ مشرق کی ایک خصوصیت ہے.
(۱۹۳۲ ، اسلامی فنِ تعمیر (ترجمہ) ، ۱۳۵)
یہ سدا بہار درخت ہیں ، یہ بہت لمبے قد کے ہوتے ہیں ، یہ اپنے پتّے نہیں گِراتے بلکہ سردی کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں.
(۱۹۶۴ ، رفیق طبعی جغرافیہ ، ۴۸۵)
بچّوں کی شہادت کے سدا بہار پُھول میری چھاتی پر ہوں گے.
(۱۹۱۲ ، شہیدِ مغرب ، ۴۳)
پروفیسر فلائشر کی عمر اب اَسّی برس کی تھی مگر معلوم ہوتا تھا کہ جوان ہیں اور جوان بھی سدا بہار.
(۱۹۳۵ ، عبرت نامۂ اندلس (ترجمہ) ، ۵۲)
اب اُس نے انشورنس کمپنی والے منیجر کو چھوڑ دیا ہے ، مگر بھئی کیا سدا بہار عورت ہے.
(۱۹۵۲ ، تیسرا آدمی ، ۲۱۷)