سدا سہاگن (ایک قِسم کی چڑیا) کا دِلکش نام پژمُردہ طبیعتوں کو بھی باغ باغ کر دیتا ہے.
(۱۹۲۳ ، سرگزشتِ الفاظ ، ۶۸)
سدا سہاگن کا جوڑا . . . کبھی اِس شاخ پر اُڑ اُڑ کر بیٹھ رہا تھا کبھی اُس شاخ پر.
(۱۹۶۲ ، ادھ کھایا امرود ، ۱۵۲)
سدا سہاگن کے پتّے مسکن اور مزلق تاثیر کرتے ہیں .
(۱۹۲۹ ، کتاب الادویہ ، ۳ : ۲۱۹)
سب راج بھر کی بیٹیاں سدا سہاگنیں بنی رہیں.
(۱۸۰۳ ، رانی کیتکی ، ۴۷)
فرماتی ہیں کہ آپ کے پانوں کی مہندی تو نہیں گِھس گئی . . . کہیے سدا سہاگن نہیں ہوں.
(۱۸۸۰ ، فسانۂ آزاد ، ۳ : ۶۵)
آج دُشنیت نے سدا سُہاگن شکنتلا کو پہچانا اور سر آن٘کھوں پر لیا.
(۱۹۳۸ ، شکنتلا (ترجمہ) ، ۱۹۱)
یوں محسوس ہوتا ہے کہ سدا سہاگن رہنے کی دعا دراصل باپ سے محبت کرنے کا انعام ہے.
(۱۹۸۳ ، تخلیق اور لاشعوری محرکات ، ۱۳۹)
سدا سہاگنوں (فقیر) کا شوخ معشوق ، عمل خوانوں کا تسخیر کردہ ملازم خاص .
(۱۹۲۹ ، اودھ پنچ ، لکھنؤ ، ۱۴ ، ۳۷ : ۴ )
معلوم نہیں کہ کھا گئی کِتنوں کو
کہتے ہیں جسے سدا سُہاگن دُنیا