ہوا ہے کِشورِ دل میں غمی کوں دیس نکالا
ہے تیرے حسن کی دولت میں اختیار تبسم
مجرموں کی سزاؤں میں سے ایک سزا نفی عن البلد (دیس نِکالا) قرار پائی .
(۱۹۰۷ ، اجتہاد ، ۵۲) .
بنی اُمیِّہ کی حالت ... بہت خستہ تھی مگر کیا کرتے جن باتوں کا عہد لیا گیا ان کا عہد کرکے شہر (مدینہ) سے نکلے نِکلتے وقت شہر کے لوگ ایک شور برپا کرتے ہوئے ساتھ ساتھ ہولیے بعض نے ان دیس نِکالوں کو پتّھر مارے.
(۱۹۳۵ ، عبرت نامۂ اندلس (ترجمہ) ، ۱۴۸).
غریب اور محتاج مسلمانوں کو ... ہجرت کرنی پڑی ، اور اس دیس نِکالے میں بڑی بڑی (بڑے بڑے) مصائب اُٹھانی (اُٹھانے پڑیں (پڑے).
(۱۹۱۲ ، تحقیق الجہاد (ترجمہ) ، (ضمیمۂ اول) ۲۰۵) .