پاپاؤں کو تو دیس نکالا مِل ہی چکا تھا اور وہ بجائے روما کے ادنیاں میں مقیم تھے.
(۱۹۱۰ ، معرکۂ مذہب و سائنس ، ۴۰۶).
انسانی حقوق کا منشور . اگر ہم نے کوئی بات قانون کے خلاف نہیں کی ہے تو کوئی حکومت ہمیں قید یا نظربند نہیں کرسکتی اور نہ ہمیں کسی جرم کے بغیر دیس نکالا مل سکتا ہے.
(۱۹۵۲ ، امن کے منصوبے ، ۵۲).
گردشِ بخت نے دلّی میں نہ رکّھا راسخ
ہمکو جنّت سے مِلا دیس نکالا افسوس
جب قاضی صاحب کو دیس نِکالا مِلا تو چندریگر صاحب نے انہیں ایک فرم میں اکاؤنٹینٹ کروا دیا.
(۱۹۸۴ ، کیا قافلہ جاتا ہے ، ۷۸) .