جس زمانے میں میرے والدِ ماجد کی مولانا عبدالراشد کے نام سے اردو ادب میں شہرت پھیل رہی تھی ، یورپ میں ان کے دو عم زاد بھائیوں عبدالجبار اور عبدالستار کا علم و فضل اور عملی کارنامے زباں زدِ خلائق تھے انہوں نے اسلام پرستی اور انگریز دشمنی میں خود ہی دیس نکالا لیا تھا.
(۱۹۸۱ ، آسماں کیسے کیسے ، ۲۸۹).