۱۔ مال ، دولت ، ثروت ، پونجی ؛ عطا ، بخشش ، عطیہ (خصوصاً جو خدا کی طرف سے ملے) ۔
میرا پیر مخدوم جی جگ منے
منگوں نعمتاں میں سدا اس کنے
(۱۵۶۴ ، فیروز (دکنی ادب کی تاریخ ، ۲۰)) ۔
دیا دل توں منجکوں دریا سار کا
بھریا تس میں نعمت اپس پیار کا
(۱۶۷۹ ، قصہء ابو شحمہ ، ۲) ۔
خدا فرماتا ہے اے بندو اگر تم شکر کرو گے تو میں نعمت زیادہ دوں گا ۔
(۱۸۰۳ ، گنج خوبی ، ۱۸) ۔
ملیں روزِ ازل ہم غم زدوں کو نعمتیں کیا کیا
دلِ بیتاب ماتم کو لب فریاد شیون کو
(۱۸۷۸ ، گلزار داغ ، ۱۶۸) ۔
کتنے بڑے افسوس کی بات ہے کہ ہم کو مطلق یہ خیال نہیں آتا کہ ماں باپ کیا چیز ہیں اور ان کی زندگی کیسی بڑی نعمت ہے ۔
(۱۹۳۶ ، راشد الخیری ، نالہء زار ، ۶) ۔
یہ سب مشرکانہ عقائد و اعمال ہیں جو اللہ تعالی کی نعمت کے مقابلہ میں شکر کے بجائے نا شکری کی مختلف صورتیں ہیں ۔
(۱۹۷۱ ، معارف القرآن ، ۴ : ۱۴۹) ۔
ان کا ایمان ہے کہ خدا ہی ہر نعمت کا بخشنے والا ہے ۔
(۱۹۹۲ ، اسلامی تصوف اہل مغرب کی نظر میں ، ۵۸) ۔
۲۔ لذیذ چیز ، مزیدار کھانا نیز آرام و آسائش ۔
بچھایا ہوں میں سفرہ امید کا
بھرو صحنکاں نعمتاں محترم
(۱۶۱۱ ، قلی قطب شاہ ، ک ، ۲ : ۱۶۹) ۔
دولت سوں جن کی بندگاں کھاتے تھے نعمت بے شمار
ویسیاں کوں ظالم ظلم کر بھوکے سلائے ہائے ہائے
(۱۷۱۳ ، مرثیہء تقی(بیاض مراثی ، ۲۰)) ۔
ایسی روایتیں جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم کے لیے آسمان سے خوان نعمت یا جنت سے میووں کے آنے کا ذکر ہے ، موضوع ہیں ۔
(۱۹۲۳ ، سیرۃالنبیؐ ، ۳ : ۷۱۰) ۔
کھانے کے بعد بھاپ اڑاتی مہکتی چائے ایک نعمت ہے ۔
(۱۹۸۹ ، دلی دور ہے ، ۲۷۶) ۔
۳۔ آرام ، آسائش ۔
مزے کی آرزو لذت کی خواہش
تنعم کی طمع نعمت کی خواہش
(۱۸۷۲ ، محامد خاتم النبیینؐ ، ۲۰۲) ۔
۴۔ ناز ، لاڈ( عموما ًناز و نعمت مستعمل)
(جامع اللغات) ۔
۵۔ عزت کا مقام ، مرتبہ یا منصب ؛ جیسے : ولایت یا پیغمبری ۔
سرافرازی تجھی سے سروراں کو
عطا نعمت تجھی سے رہبراں کو
(۱۷۱۴ ، فائز دہلوی ، د ، ۱۹۸) ۔
دیکھیے کہ آپ کے بندے نے آپ کی نگاہ میں نعمت پائی ہے میری جان بچانے میں جو کرم کہ آپ نے مجھ پر کیا سو نہایت بڑا ہے ۔
(۱۸۲۲ ، موسیٰ کی توریت مقدس ، ۶۱) ۔
دنیا میں حقیقی خلافت ۔۔۔۔۔ یہ تو اللہ کی طرف سے بہت کم انسانوں کو دی گئی ہے۔ اس نعمت سے تو فرشتے بھی محروم ہیں ۔
(۱۹۸۳ ، اصحاب رسولؐ اور ان کے کارنامے ، ۶۶) ۔
[ ف : نعمت ؛ ع : نعمۃ ]۔
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .