کل جو مٹھائی کی طشتری شادی میں سے آئی تھی وہ نیامت خانہ(نعمت خانہ) میں رکھی ہے، اس پر رومال بندھا ہے کھول لو ۔
(۱۹۵۴ ، پیر نابالغ ، ۵۱) ۔
کافی عرصہ پہلے کی بات ہے جب گھروں میں فریج کے بجائے نعمت خانے ہوا کرتے تھے ۔
(۱۹۹۱ ، سفر گشت ، ۱۹۸) ۔
داروغہء نعمت خانہ نے عرض کی کہ خاصہ تیار ہے وہیں بادشاہ زادہ مع اختر سعید متوجہ نعمت خانے کے ہوئے ۔
(۱۷۹۲ ، عجائب القصص (شاہ عالم ثانی) ، ۶۲) ۔
نعمت خانے میں دستر خوان زربفت کا بچھا کھانا اس سلیقے سے چنا کہ دستر خوان پر گلزار بنادیا ۔
(۱۸۰۲ ، نثر بے نظیر ، ۱۲۹) ۔
ابن ماجد کی طرف اشارہ فرمایا کہ جھٹ پٹ نعمت خانہ آراستہ کیا جائے ۔
(۱۸۷۹ ، اصغر اکبر آبادی ، وقائع شاہزادہ منصور الزماں ، ۲۲۸) ۔
جو مکان دیکھنے میں آئے ہیں وہ زیادہ تر ایک منزل کے ہیں ان میں ایک کشادہ صحن ، ایک گودام یا نعمت خانہ اور بعض اوقات ایک اصطبل بھی ہوتا ہے ۔
(۱۹۶۷ ، اردو دائرہ معارف اسلامیہ ، ۳ : ۴۷۱) ۔