ثابت ہو بغض و کیں ہے تو آ جائے مجھ کو صبر
پھر کیا ہے دل میں آپ کے یہ بھی اگر نہیں
جب تک دن بھر میں ایک آدھ کو نقصان نہ پہنچا لے صبر ہی نہ آتا تھا.
(۱۹۰۸ ، صبح زندگی ، ۲۱۰)
مور کی درد بھری آواز آنی بند ہوگئی ہے شاید اسے صبر آگیا ہے.
(۱۹۸۴ ، زمیں اور فلک اور ، ۱۵۹)