خاک اختیار نہ ہو تو کیوں کر صبر کی سل چھاتی پر نہ دھریں.
(۱۸۹۰ ، بوستان خیال ، ۶ : ۴۴۲)
جو لوگ غم و اندوہ کی وضع بنائے اور صبر کی سل چھاتی پر رکھے اس محل میں ہیں وہ خود تو کچھ نہیں کہتے.
(۱۹۲۳ ، مضامین شرر ، ۱ : ۸۶)
درماندہ حضرات جن کے پاس اپنے ؟؟؟ میں ہوتا وہ صبر کی سل سینے پر رکھ کر خاموش ہو جاتے ہیں.
(۱۹۸۲ ، پٹھانوں کے رسم و رواج ، ۱۰۶)