تُو جو دل ، شمعِ سحر کی طرح اب خاموش ہے
میری آہِ بے اثر کا صبر یہ تجھ پر پڑا
عہدے میں ہاتھ ڈالے گا تو تجھ پر میرا صبر پڑے گا.
(۱۸۰۳ ، اخلاق ہندی (ترجمہ) ، ۵۴)
یہ کس کا صبر پڑا ہے کہ ڈھل گیا جوبن
گرہ یہ کاٹی تھی کس کی یہ مال کس کا تھا
کہا کہ خدا کی قسم ہم پر اسی لڑکے کا صبر پڑا ہے.
(۱۹۴۵ ، الف لیلہ و لیلہ ، ۶ : ۸۸)