دیکھا تھا دل نے جب سے تری آن بان کو
ہم صبر کر چکے تھے اسی دن سے جان کو
میرے پہلو سے نہ قاتل تیر کھینچ
تیر کو اب صبر کر شمشیر کھینچ
عشق بازی جو منگے کرنے ہونا صبر اسے
غم ندیاں ابلے تو کرنا ہے اسے صبر روا
ہر درد پہ کر صبر ولی عشق کی رہ میں
عاشق کو نہ لازم ہے کرے دُکھ کی شکایت
میں صبر نہ کرتا کہ میرے حق میں الٰہی
بہتر یہی ہوتا ہے کہ بہتر نہیں ہوتا
اور تجھ سے پہلے انبیاء بھی جھٹلائے گئے تو انہوں نے اپنی تکذیب پر صبر کیا.
(۱۹۲۳ ، سیرۃ النبیؐ ، ۳ : ۲۲۱)
دشنام کی بھی آپ سے کس کو امید تھی
ہم نے تو اس پہ صبر کیا جو عطا ہوا
غمِ فرقت میں غم کھا کر ہی اپنا پیٹ بھرتے ہیں
جو کچھ ملتا ہے ہم کو ہم اسی پر صبر کرتے ہیں