صبر میرا سمیٹتی ہے ددا
شب کو بولی تھی چارپائی کب
کوئی بہو پر زہر اُگلتی ہے کوئی خاوند کا صبر سمیٹتی ہے.
(۱۸۷۴ ، مجالس النسا ، ۱ : ۵۲)
زاہد ہے تجکو رحمتِ باری کی کیا خبر
ظالم سمیٹ صبر نہ تُو بادہ خوار کا
”نہیں بیٹی ابھی تک تو کوئی ایسی بات نہیں دیکھی میں کیوں کسی کا صبر سمیٹوں“.
(۱۹۶۱ ، ہالہ ، ۲۲۴)