خوباں نے رکھا طاق پہ ایمان اُٹھا کر
عاشق سے دغا کرتے ہیں قرآن اُٹھا کر
(۱۷۹۵ ، حسرت لکھنوی ، ک ، ۱۶۴) .
بے اعتبار آپ کی جانب سے ہو گیا
قرآن اٹھائے تو نہ آئے یقین مجھے
قسم بھی کھائی تھی قرآن بھی اٹھایا تھا
پھر آج ہے وہی انکار دیکھتے جاؤ
کلامِ مصحف ناطق بھی ہے کلامِ خدا
نہ ہو یقین تو قرآن ہم اٹھاتے ہیں