یار مجھ پر ہے مہرباں صد شکر
ہے مرے غم کا قدرداں صد شکر
شعر مضموں زا کہے جارہ نہ افسردہ نسیم
اک دن کوئی نہ کوئی قدرداں ہوجائے گا
ہمارے دل کا کوئی قدراں نہیں ملتا
یہ اونٹ وہ ہے جسے سارباں نہیں ملتا
بہرحال اس سے پتہ چلتا ہے کہ اہلِ لکھنو انیس کے کتنے قدرداں ہیں .
(۱۹۸۴ ، زمیں اور فلک اور ، ۷۳).
اے برادرِ مہربان مجھ رانڈ بہن کی خبر لے اور اے مشفقِ قدردان اس کھولے سر کوں چادر دے .
(۱۷۳۲ ، کربل کتھا ، ۲۴۰).
کوئی ایسا عادل قدرداں عمدہ
ہوا ہے نہ ہوگا خدا کی دہائی
قدرداں قدر کن و قدر فزا قدر شناس
حاکمِ علم و عمل بادشہِ فہم و فِطن
مجلس میں کسی کو اپنا قدردان نہیں پاتے .
(۱۹۲۸ ، آخری شمع ، ۸۶).
ویسے حضور کا غلام ہوں پھر آپ قدردان ہیں .
(۱۹۸۶ ، آئینہ ، ۱۷۷).